وہ جو دربدر، خاک بسر ہوئے
وہ جو لٹ گئے ، بے گھر ہوئے
وہ نہ مانگیں تم سے تمہارا گھر
نہ تمہارا دکھ نہ تمہارا در
وہ تو چاہتے ہیں بس گزر بسر
انهی وادیوں میں عمر بھر
یہ کڑا وقت، یہ تلخیاں
یہ گردشیں ، یہ بجلیاں
ہے ہمارے رب کا یہ امتحان
چلو قافلوں کو کرو رواں
آو مل کے ان کا ساتھ دو
جو مدد کرے وہ ہاتھ دو
کہ یہ اپنی دھرتی کے لوگ ہیں
انہیں زندگی کی سوغات دو
انہیں پھر وہی سوات دو
انہیں پھر وہی سوات دو